نئی دہلی،4؍نومبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) دہلی حکومت نے بدھ کے روز یہ قبول کیا کہ قومی دار الحکومت میں عالمی وبا ’کووِڈ۔19‘ کی تیسری لہر ہے۔ وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور وزیر صحت ستیندر جین نے آج اس بات کو تسلیم کیا کہ دہلی میں فی الحال کورونا وائرس کی تیسری لہر چل رہی ہے۔
قومی راجدھانی میں منگل کے روز کورونا وائرس کے ریکارڈ 6,725 نئے کیسز سامنے آئے تھے اور کل اعداد و شمار چار لاکھ تین ہزار 96 ہو گئے ہیں۔ 6652 کورونا مریض ہلاک ہو چکے ہیں اور 36 ہزار 375 مریض فی الحال وبا سے متاثر ہیں جبکہ تین لاکھ 60 ہزار 69 وبا کو شکست دے چکے ہیں۔
اروند کیجریوال نے میڈیا سے کہا کہ ’قومی دار الحکومت میں کووِڈ۔19 کے کیسز میں تیزی آئی ہے۔ ہم اسے کورونا وائرس کی تیسری لہر کہہ سکتے ہیں۔ ہم صورتحال پر باریکی سے نظر رکھے ہوئے ہیں اور حسب ضرورت وبا کو کنٹرول کرنے کے لیے جو بھی ضرورت ہوگی اقدام کریں گے‘۔
ستیندر جین نے کہا کہ ’دہلی میں کورونا وائرس کی تیسری لہر ہے۔ حالانکہ اس کے لیے گزشتہ 15 دنوں میں جارحانہ کنٹیکٹ ٹریسنگ کو وجہ مانا جا رہا ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ دارالحکومت میں کل کورونا بیڈ میں تقریباً 6800 پر مریض ہیں جبکہ 9000 خالی پڑے ہیں۔
ستیندر جین نے کہا کہ ان کی حکومت نجی اسپتالوں میں آئی سی یو بیڈ محفوظ رکھنے کا فیصلہ پلٹنے کے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جائے گی۔ وزیر صحت نے کہا کہ سرکاری اسپتالوں سے زیادہ نجی اسپتالوں میں بھیڑ ہے کیونکہ باہر سے آنے والے لوگ انہی اسپتالوں میں علاج کروانے آتے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے کہا کہ علاج کا پروٹوکال سرکاری اور نجی دونوں اسپتالوں میں ایک ہی ہے۔